.

میڈیکل کی دنیا میں انقلاب۔ ڈپریشن کی تشخیص اب بلڈ ٹسٹت یعنی خون کے نمونوں سے ہوسکے گی


ذہنی امراض کی ایک عام قسم جسے بائی پولر ڈس آرڈرکہتے ہیں  کی تشخیص اب بلڈ ٹیسٹ سے ہوسکے گی۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین کی ٹیم نے فرانس اورسوئٹزر لینڈکی ٹیموں کے ساتھ مل کر برسوں کی محنت کے بعد ایک بلڈ ٹیسٹ وضع کیا ہے جس کی مدد سے پائی پولر ڈس آرڈر کی کیفیت کی جانچ کی جا سکتی ہے ، اس سے دنیا بھر کے کروڑوں مریضوں کو فائدہ ہو گا۔

طبی ماہرین نے یہ انکشاف کیا ہے کہ انسانی خون میں 6 اجزا ایسے ہیں جو بائی پولر ڈس آرڈر کو ظاہر کر سکتے ہیں۔انہوں نے اسی بنا پر ایک بلڈ ٹیسٹ وضع کیا ہے، توقع ہے کہ اس طرح نہ صرف کروڑوں افراد کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ان میں بائی پولر اور یونی پولر ڈس آرڈر اور ڈپریشن کی جانچ کرنا بھی آسان ہوجائے گی۔بائی پولر ڈس آرڈر میں موڈ اور مزاج تیزی سے بدلتا رہتا ہے، کبھی خوشی، کبھی اداسی اور کبھی ڈپریشن یا کبھی سنجیدگی کا راج ہوتا ہے۔یہ رویہ اس شخص کے نذدیک رہنے والے لوگوں اور اہلخانہ کو بہت پریشان کرتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق بائی پولر ڈس آرڈر کو کونسلنگ کے ذریعے شناخت کرنا بہت مشکل ہے بعض دفعہ تو برسوں مریض کی شناخت نہیں ہو پاتی  اور یوں معاملہ ٹھیک ہونے کی بجائے تیزی سے بگڑنا شروع ہو جاتا ہے۔بہت امید ہے کہ خون میں ان 6 بائیو مارکرز یا اجزا  کی مدد سےاس کیفیت کی شناخت اور علاج  کرنے میں مدد ملے گی۔

اگر آپ کو ہماری یہ پوسٹ پسند آئے تو اسے لائیک ضرور کریں۔شکریہ

اگر جوڑوں اور ہڈیوں کا درد دور کرنا ہے تو صرف یہ عادت اپنا لیں۔ پھر دیکھیں کمال۔۔۔



جوڑوں کا درد گٹھیا ایک عام لیکن تکلیف دہ مرض ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ لاحق ہوجاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پیدل چلنے کی عادت اس تکلیف کو بہت کم کر سکتی ہے۔امریکہ کے طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق چہل قدمی سے نہ صرف گھٹنوں کی تکلیف اوسٹیو آرتھرائٹس میں کمی ہوتی ہے بلکہ اس سے اندرونی ٹوٹ پھوٹ  بھی ٹھیک ہو جاتی ہے ۔
جوڑوں کا دردایک  آٹو امیون مرض ہے جس کا علاج صرف دردکش (پین کلرز) ادویات اور احتیاط ہے، لیکن اس تکلیف کو ورزش کی مددسے دور کیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے آسان عمل چہل قدمی ہے اور طبی ماہرین نے اس عمل سے لا محدود فوائد حاصل کیے ہیں۔تحقیق کے لیے طبی ماہرین نے 50 سال اوپر عمر کے ایسے 12 سو افراد enroll کیے جو سب گھٹنوں کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ان میں سے 73 فیصد  افراد نے ہلکی یا درمیانے درجے کی واک کا اعتراف کیا جبکہ 27 فیصد ایسے افراد تھے جنہیں واک کرنے کی عادت نہ تھی، ان سب کے ہڈیوں کے ٹیسٹ اور ایکسرے لیے گئے تو پتہ چلا کہ واک سے گریز کرنے والے افراد درد سے زیادہ کراہتے ہیں اور اگر پیدل چلنےیا واک کرنے  کی عادت اپنائی جائے تو اس سے درد میں 40 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ جب دونوں قسم کے افرادکے گھٹنوں کے ایکسرے رزلٹ چیک کیے گئے تو پیدل چلنے یاواک کرنے والوں کے گھٹنوں کی ہڈیوں کے درمیان خلا بھی کم تھی جو اس مرض کی سب سے بڑی علامت ہے۔ طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ گھٹنوں کے درد میں مبتلا افراد کو روزانہ ہلکی پھلکی  چہل قدمی یا واک کو اپنا معمول بنا لینا چاہیے۔

روزانہ ایک کپ کافی پینے سے اچانک گردوں کے فیل ہونے کے خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے۔



کافی ہر جگہ ، ہر شہر اور ہر ملک میں موجود ہے کیونکہ دنیا کا سب سے مشہور ہاٹ ڈرنک ہے، اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ لوگ اسے اتنا پسند کیوں کرتے ہیں۔ کافی 1000 سال سے زیادہ عرصے سے استعمال ہو رہی ہے اور دنیا بھر کی بہت سی ثقافتوں میں ایک محرک کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

روزانہ ایک کپ کافی پینے سے گردوں میں اکیوٹ کِڈنی انجری  کا خطرہ ٹالا جاسکتا ہے جس میں اکثر گردے اچانک فیل ہو جاتے ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق کافی دماغی پستی اور ذیابیطس ٹائپ ٹو جیسے امراض میں پہلے ہی مفید ثابت ہوچکی ہے تاہم مزید تحقیق کے بعد اب معلوم ہوا ہے کہ ایک کپ روزانہ کافی پینے سے اکیوٹ کِڈنی انجری کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ اگر کافی کے دو سے تین کپ روزانہ پیے جائیں تو یہ خطرہ  23 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔medical language میں جب ’چند گھنٹوں یا چند دنوں میں گردے تیزی سے ناکارہ ہونے لگیں اور گردوں کا شدید ترین نقصان ہوجائے تو اس نوعیت کو اکیوٹ کڈنی انجری کہا جاتا ہے۔ اس انجری کے بعد زہریلے مرکبات بدن میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔سائنسدان کافی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک کپ کافی پینے کے عادت گردے کی محافظ ثابت ہوتی ہے اور اے کے آئی کا خطرہ 15 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ دو سے تین کپ کا فائدہ بڑھ کر 22 سے 23 فیصد تک جا پہنچتا ہے۔تاہم اس بات پر مزید تحقیق ہو رہی ہے کیا کیفین ہی اس کی وجہ ہے یا کافی میں موجود کوئی اور جزو اس کی وجہ ہے ۔

اگر آپ کو ہماری یہ پوسٹ پسند آئے تو اسے شئیر لازمی کریں ۔ شکریہ

کیا آپ زندگی کی 40 بہاریں دیکھ چکے ہیں؟ تو اب ہو جائیں ہو شیار اور اپنی خوراک میں کیجیے ڈھیر ساری احتیاط۔

 


ہر انسان کی  زندگی  میں ایک ایسا موڑ آتا ہے، جب وہ خود کو اُتنا طاقت ور محسوس نہیں کرتا جیسا وہ کبھی ہوا کرتا تھا، جی ہاں جب جوانی ڈھل جائے تو انسان کی جسمانی قوت میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔  طبی ماہرین کا کہنا ہے 40 سال گزارنے کے بعد کسی بھی انسان کی صحت پہلے جیسی نہیں رہتی،40 برس کے بعد انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے نیند میں کمی اور جسم پر مختلف بیماریوں کا حملہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

تاہم اس حالت میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، وہ آپ کی غذا ہے، کیوں کہ بڑھاپے کی جانب مائل جسم کا میٹابولزم  کانظام سست ہونا شروع ہو جاتا ہے لہذاخود کو صحت مند رکھنے کے لئے آپ کو غذائی ضروریات کی تکمیل میں احتیاط برتنا لازمی ہے۔ جوانی کے ایام میں انسان کا ہاضمے کا نظام بہت اچھا ہوتا ہے  جس کی وجہ سے مسالے دار اور بھاری غذائیں بھی آسانی سے ہضم ہو جاتی ہیں لیکن ان عادات کو اگر 40 سال کی عمر کے بعد بھی برقرار رکھا جائے تو آپ کے لئے طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔  طبی ماہرین کے مطابق 40 سال  کے بعد صحت برقرار رکھنے کے لیے  کچھ غذاوں کو ترک کر دینا چاہیے۔یہاں ہم آپکی آگاہی کے لیے  چند ایسی  غذاوں کا ذکر کریں گے  جن سے آپکو فائدہ ہو سکتا ہے۔

مصنوعی مٹھاس

جدید ریسرچ نے چینی کو سفید زہر قرار دیا ہے۔  وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں میں کچھ آگاہی تو آئی ہے لیکن اب  انہوں نے چینی کے طبی نقصانات سے بچنے کے لئے مصنوعی مٹھاس کا رخ کر لیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مصنوعی  مٹھاس بھی 40 سال سے زائد عمر کے افراد کے لئے ٹھیک نہیں بلکہ مضر صحت ہے۔ مصنوعی مٹھاس کھانے سے ذیابیطس سمیت صحت کے دیگر مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ کو میٹھا بہت پسند ہے اور آپ اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تو  آپ شکر ، گڑ یا پھر قدرتی میٹھا استعمال کر سکتے ہیں۔ جیسے تازہ پھلوں کا رس، شہد وغیرہ، جو نہ صرف آپ کی میٹھا کھانے  کی خواہش پورا کریں گے بلکہ ان کے استعمال سے آپ کی مجموعی صحت پر مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

سوڈے والی بوتلیں

ایک بات ذہین میں رکھیں سوڈا کا استعمال کسی بھی عمر میں ٹھیک نہیں لیکن 40 سال کی عمر کے  تو بالکل بھی اچھا نہیں ہے کیونکہ آپ کا جسم زہریلے مادوں کا اخراج بند کر دیتا ہے یا اسے یہ کام کرنے کے لئے بہت زیادہ طاقت لگانا پڑتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق بازار میں دستیاب مختلف بوتلوں میں جو کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک methylimidazole یا 4-MEL نامی کیمیکل ہے، جو کینسر کا موجب بن سکتا ہے۔  ایک نئی تحقیق کے مطابق شادی شدہ جوڑے جن کی عمر 40 سال سے اوپر ہے  وہ  سوڈے والے پراڈکٹس سے پرہیز کریں کیونکی یہ شرح پیداوار کو متاثر کرتا ہے۔

کھانے والے رنگ

کھانوں کو مختلف رنگت دینے سے  یہ دلکش تو لگتے ہیں  اور انسانی طبیعت سادہ کھانوں سے زیادہ ان کی جانب مائل ہوتی ہے جیسے سنیکس، چاول، کینڈی، آئس کریم وغیرہ۔ اگرچہ فوڈ اتھارٹیز نے ان  کھانے والے رنگوں کو approveکر دیا ہے لیکن پھر بھی یہ آپ کی صحت کے لئے اچھے نہیں، ان رنگوں کے استعمال سے کینسر  بھی مختلف بیماریاں ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ لہذا ان رنگوں کے بجائے کھانوں میں چقندر، ہلدی اور پودینہ  جیسی قدرتی اشیاء کا استعمال کریں، جو نہ صرف پکوان کو رنگین بناتے ہیں بلکہ کھانے کی غذائیت  کو بھی بڑھا  دیتے ہیں۔

پھلوں کا رس/جوس

ہمارے ہاں پھلوں کے رس کو صحت مند قرار دیا جاتا ہے لیکن یہ پورا سچ نہیں ہے، بالخصوص جب یہ مارکیٹ میں مختلف ناموں سے ملنے والی بوتلوں سے حاصل کیا جائے۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں  ان بوتلوں میں سو فیصد پھلوں کارس نہیں ہوتا بلکہ اس میں دیگر اجزاء بھی شامل کئے جاتے ہیں دوسرا پھلوں کا کا جوس پینے اور انہیں کھانے میں بہت فرق ہے۔آپ نے سنا ہوگا کہ روزانہ ایک سیب کھانا ڈاکٹر کو آپ سے دور رکھ سکتا ہے لیکن کیا کبھی آپ نے یہ بھی سنا  روزانہ ایک گلاس سیب کا رس پینے سے آپ ڈاکٹر سے دور رہ سکتے ہیں تو اس کا سیدھا  اور سادہ جواب یہ ہے کہ جب آپ پھل کھاتے ہیں تو آپ جوس کے ساتھ ساتھ فائبر بھی لیتے ہیں، جس کا یہ فائدہ ہو گاکہ آپ کا جسم اس پھل کو ہضم کرے گا اور آپ کے شوگر لیول کو بڑھنے نہیں دے گا۔

بند پیکٹوں میں تیار شدہ گوشت

دورحاضر میں انسان سہل پسندی  کا شکار ہو چکاہے اور وقت کی کمی نے ہمیں تیار شدہ اشیاء کا  گرویدہ بنا دیا ہے، اب گھر وں میں تازہ گوشت لا نے کی بجائے بازار سے پیکٹوں میں بند تیار شدہ گوشت لایا جاتا ہے  تاکہ جیسے ہی ضرورت پڑے فوراً فریج سے نکال کر  منٹوں میں تیار کر لیا جاتا ہے۔تیار شدہ گوشت میں مختلف قسم کے کیمکلز لگائے جاتے ہیں پیٹ کی چربی کو بڑھانے اور صحت کے کچھ دیگر سنگین مسائل پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ اگر آپ گوشت کے شوقین ہیں تو بازار سے تازہ گوشت لائیں۔

آگ پر تیار کیا جانے والا گوشت

گرل یا سیخ کے ذریعے گوشت تیار کرنا یعنی باربی کیو کرنا  ہمارے گھروں اور پارٹیز میں بہت شوق سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ  کی عمر 40  برس  سے اوپر  ہے تو یہ گوشت آپ کی صحت کے لئے اچھا نہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عمل سے آپ کے جسم میں کینسر کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔  اگر آپ کو باربی کیو زیادہ پسند ہے تو آپ اسے براہ راست آگ پر تیار کرنے کے بجائے کسی ڈھکن والے برتن میں ڈال کر تیار  کر لیں ، اس سے نہ صرف آپ کو غذائیت ملے گی بلکہ باربی کیو والی خوشبو سے بھی آپ لطف اندوز ہوں گے۔

 سفید پاستہ اور بریڈ

آج کل پاستہ اور بریڈ  کھانا  ہماری خوراک کا  لازمی جزو بن چکے ہیں، جنہیں غذا سے نکالنا بہت دشوار محسوس ہوتا ہے۔ پاستہ اور بریڈ میدے سے بنتا ہے۔ بلاشبہ یہ گندم سے حاصل ہوتا ہے  لیکن گندم  پر پراسس  ہونے کے بعد میدے میں سے تمام فائبر اور دیگر غذائی اجزاء نکال لئے جاتے ہیں جو بلڈ پریشر  کا موجب بنتے ہیں۔ پاستہ یا بریڈ زیادہ کھانے سے آپ ذیابیطس اور موٹاپے کا شکا ر ہو سکتے  ہیں کیونکہ آپ کا جسم کاربوہائیڈریٹ پر تیزی سے عمل نہیں کر سکتا۔

چکنائی سے غیر ضروری پرہیز

ہمارا یہ المیہ ہے جب  ہم موٹاپے کا شکار ہو جاتے ہیں تب چکنائی یعنی فیٹس سے دور بھاگتے ہیں حالانکہ  فیٹس سے پاک خوراک وہ جال ہے، جس میں موٹے افراد زیادہ پھنستے ہیں، موٹاپے کا شکار افراد چکنائی سے پاک  مصنوعی غذائوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اگرچہ ان غذاوں میں چکنائی نہیں ہوتی لیکن اس میں چینی، نمک اور دیگر اجزا ہوتے ہیں اور بعض اوقات چکنائی کی عدم موجودگی میں ان اجزا کی کثرت صحت کو  اوربگاڑ دیتی ہے۔  لہذا چکنائی سے پاک غذاوں سے غیرضروری حد تک پرہیز مت کریں۔

ڈبوں میں محفوظ پھل

آج کل ایک اور ٹرینڈ بہت زیادہ عام ہے ، پھلوں کو ڈبوں میں پیک کیا جاتا ہے تاکہ یہ خراب نہ ہوں۔ لیکن ان پھلوں کو زیادہ دیر تک خراب ہونے سے بچانے کیلئے کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لہذا جہاں تک ہو سکے فریش پھل  ہی مارکیٹ سے  خریدیں۔

فاسٹ فوڈ

طبی ماہرین کے مطابق فاسٹ فوڈ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے خطرات کو جنم دیتا ہے، ماہرین نے 3 ہزار ایسے افراد پر تحقیق کی جو ہفتے میں ضرور کم از کم دو بار فاسٹ فوڈ کھاتے تھے ان میں انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کا خطرہ دو گناہ بڑھ گیا۔

سبزیوں کا تیل

بہترین اندرونی نظام کو برقرار رکھنے کے لئے توازن نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس توازن کو برقرار رکھنے کے لئے مخصوص مقدار میں تیل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سبزیوں کے تیل جیسے مکئی سویا بین اور روئی کے بیجوں کے تیل میں اومیگا 6 فیٹی ایسڈز زیادہ مقدار میں ہوتا ہے، لہذا  توازن پیدا کرنے کے لئے تیل سے کبھی کبھار پرہیز کریں، جس سے آپ کا دل صحت مند رہے گا اور آپ خود کو بہت بہتر محسوس کریں گے۔

بوتل والی ٹھنڈی کافی

سوال اٹھتا ہے کہ آخر لوگ بوتل والی ٹھنڈی کافی کی طرف اتنا راغب کیوں ہو رہے ہیں؟ کیا ملک شیک اس سے کہیں زیادہ بہترین ڈرنک نہیں؟ ایک طرف تو آپ کولڈ ڈرنکس سےاجتناب کر رہے ہیں کہ یہ نقصان کا باعث ہیں لیکن دوسری طرف آپ بوتل والی کافی کی طرف رجحان بھی بڑھا رہے ہیں۔ بوتل والی کافی میں شوگر زیادہ مقدار میں ہوتی ہے جس سے آپ ذیابیطس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہارمونل بیلنس بھی ڈسٹرب ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ تر کولڈ کافیز قدرتی کافی کے بیج سے تیار نہیں ہوتیں۔

فارمی مچھلی

فارمی مچھلی کو جو خوراک  مہیا کی جاتی ہے وہ بالکل ویسے ہے برائلر مرغی کو دی جاتی ہے۔ یہ مچھلی انسانی صحت کے لئے اتنی صحت بخش  نہیں جتنی سمندروں اور دریائوں میں قدرتی طور پر تیار ہونے والی مچھلی ہے۔ جب ایک 40 سالہ  انسان فارمی مچھلی کھاتا ہے تو اس میں اومیگا فیٹی ایسڈ کا عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں، لہذا فارمی مچھلی کے بجائے ہمیشہ نامیاتی مچھلی کو ترجیح دیجیے ۔

فرائیڈ یعنی تیل میں تلی ہوئی غذائیں

جب آپ 40  سال کی عمر تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر آپ کو حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ آپ تیل کی تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں جیسے فرائید چکن، مچھلی، آلو کی چپس اور برگر وغیرہ۔ آج کل آلو کی چپس کے ساتھ برگر کھانے کا رواج بھی  عام ہو رہا ہے جو مضر صحت ہے۔ اگر آپ آلو کی چپس کے دلدادہ ہیں تو آپ انہیں گھر پر خود تیار کریں، پہلے بات تو یہ کہ آلو کا چھلکا  نہ  اتاریں، اسے صرف اچھی طرح دھو لیں دوسرا تیل میں فرائی کرنے کے بجائے اسے اوون میں سٹیم پر پکائیں تو یہ آلو کی چپس آپ کو نقصان کے بجائے فائدہ دے گی۔

بڑے جانور کا گوشت

بیف سے پرہیز  اور وہ بھی مردوں کے لیے ؟کسی آزمائش سے کم نہیں لیکن بڑھتی عمر آپ کی مشکلات کم نہیں بلکہ زیادہ کرتی ہے تو آپ کو یہ قربانی بھی دینا ہو گی، لہٰذا جب آپ 40 سال کے ہو جائیں تو یہ سرخ گوشت بار بار سے پرہیز کریں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکرہے کہ بڑے گوشت میں  کوئی مسئلہ نہیں بلکہ مسئلہ بڑھتی عمر میں ہے۔

انرجی ڈرنکس یعنی قوت بخش مشروبات

انرجی ڈرنکس پی کر بعض افراد اپنی کمزوری کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو سراسر غلط ہے، ان مشروبات سے شائد آپ کو وقتی طور پر کچھ فائدہ یا جسمانی طاقت محسوس ہو لیکن ایک خاص وقفے کے بعد آپ کی حالت پہلے جیسی ہو جائے گی بلکہ ان مشروبات کا مسلسل استعمال آپ کی صحت کو بگاڑ کر سکتا ہے کیونکہ ان مشروبات میں چینی اور کیفین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

اگر آپکو ہماری یہ پوسٹ پسند آئے تو اسے شئیر ضرور کریں۔

نومولود بچوں کی آنکھیں دیکھ کر یرقان شناخت کرنے والی ایپ تیار۔ کلینکل ٹیسٹوں سے جان چھڑوائیں۔

 


جس طرح نت نئے سمارٹ فونز ایجاد ہو رہے ہیں بالکل اسی طرح نت نئی ایپس بھی لانچ ہو رہی ہیں۔ چھوٹے معصوم بچے اکثر یرقان کا شکار ہو جاتے ہیں  ان بچوں میں یرقان کی جانچ کرنے کے لیے  ایک ایپ لانچ کئی گئی ہے ۔ اس سادہ سی ایپ  کی بدولت چھوٹے بچوں میں جگرکا یہ مرض آسانی سے شناخت کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایپ بچوں کی آنکھوں میں موجود پیلاہٹ سے یرقان  کی شناخت کرسکتی ہے۔یہ ایپ اسمارٹ فون  میں موجود کیمرے کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ بچوں کی آنکھوں میں پیلاہٹ دیکھ کر اس سے یرقان ہونے یہ نہ ہونے کا انڈیکیشن دیتی ہے۔
جامعہ گھانا اور یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں کی مشترکہ کوششوں کی بدولت neoSCB  نامی ایپ بنائی  گئی ہے۔ اسے پہلے گھانا میں تقریباًٍ 300 اور پھر لندن میں کم و بیش 36 بچوں پرآزمایا گیاہے۔ آنکھ کی سفیدی کا ایک حصہ ’سکلیرا‘ اگر غیرمعمولی زردی  ہو تو یہ جونڈائس  یا  پیلیے کی علامت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ اس میں بسا اوقات غلطیاں ہوجاتی ہیں تاہم  یہ ایپ  بہت مہارت سے ساری خامیوں کو دور کر کے رزلٹ دیتی ہے۔ جب neoSCB ایپ کی بدولت 336 بچوں کا ٹیسٹ کیا گیا تو ان میں 79 بچے شدید یرقان کے شکار تھے تاہم ایپ نے بہت درستگی سے 74 بچوں کی آنکھیں دیکھ کر خطرے کی گھنٹیاں بجائیں اور کہا کہ وہ یرقان کا شکار ہیں  اور حیرانگی کی بات یہ ہے  جن جن بچوں میں ایپ نے یرقان ڈائگنوز کیا بعد میں ان  سب بچوں کے ٹیسٹ کئے گئے اور ان میں واقعی مرض کی تشخیص ہوگئی۔ایپ کے موجد ڈاکٹر ٹیرنس لیونگ نے بتایا کہ ایپ کمرشل آلات کی طرح ہی قابلِ اعتبار ہے۔ neoSCB ایپ نومولود میں بہت آسانی سے یرقان تلاش کرسکتی ہے اور اس کی قیمت بھی دیگر مہنگے فزیکل ٹیسٹوں سے دس گنا کم ہے۔یہ ایپ غریب اور دوردراز علاقوں میں رہنے والے بچوں  کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوکر لاکھوں بچوں کی جان بچاسکتی ہے۔  

لیموں سے خوبصورتی، فٹنس اور کم وزن کیسے؟ لیموں کے ایسے طبی فوائد جسے جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔


 

لیموں ایک ایسی چیز ہے جو ہمارے گھروں میں عموماً استعمال ہوتی ہے  اور ہم میں سے اکثر اس کو شکنجبی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لیکن کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے یہ متعدد امراض سے تحفظ دینے کے لیے بھی مفید ہے؟ نہیں  تو چلیے ہم آپکو بتاتے ہیں۔
 
1۔       لیموں کا پانی ہاضمہ کو بہتر بنانے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ لیموں میں موجود قدرتی تیزاب پروٹین کو ہضم کرنے میں معدے کی معاونت کرتا ہے جبکہ نشاستہ اور شکر کو ہضم کرنے کے عمل کو سست کرتا ہے جس سے شوگر لیول کنٹرول  میں رہتا ہے۔
2۔       لیموں میں چونکہ ایسٹرک ایسڈ کی مقدار سب سے زیادہ پائی جاتی ہے اس لیے یہ گردے اور پتہ میں پتھری کو تحلیل کرتا ہے اور ساتھ ہی نئی پتھری بننے  کے عمل کوروکتا ہے تاہم لیموں پانی میں چینی کا زیادہ استعمال آپ کے گردوں کو نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
3۔       لیموں پانی قوت مدافعت بڑھاتا ہے اور جلد بڑھاپے کے اثرات کو زائل کرتا ہے ۔ لیموں میں موجود وٹامن سی جسم کو صحت مند ،توانا  اور چست رکھتا ہے اور انسانی جسم مدافعت  پیدا کر کے نظام کو مضبوط اور طاقتور بناتا ہے۔
4۔       زیتون کا تیل اور لیموںکا رس 3 بڑے چمچے اور دو چمچے شہد لے کر ان میں آدھا کپ شکر ملا دیں۔ اس مرکب کو 20منٹ کے لیے چہرے پر لگا کر چھوڑ دیں۔ اس سے آپ کی جلد صاف اور تروتازہ ہوجائے گی جبکہ چہرے سے کیل مہاسوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔
5۔       طبی ماہرین کے مطابق وٹامن سی سے بھرپور سبزیاں اور پھل کھانے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔لیموں میں چوکہ وٹامن سی کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے  اس لیے یہ دل کے امراض کے لیے بھی بہت مفید ہے۔
6۔       لیموں جسمانی وزن کم کرنے والی ایک بہترین غذا ہے۔ گرم پانی میں لیموں کا عرق ملا کر پینا جسمانی وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
7۔       لیموں کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے جس سے موڈ  خوشگوار رہتا ہے ، اسی طرح ذہنی دباو اور پریشانیوں میں خود کو پر سکون رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
8۔       لیموں کا عرق چہرے پر استعمال کرنے سے  چہرے سے چھائیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ چہرے یا جسم پر چھایاں پڑ جانے سے لیموں کے عرق کو براہ راست متاثر حصے پر لگا کر 20منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔
9۔       لیموں جلد کو چمکدار بناتا ہے اور مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ چہرے کو لیموں کے پانی سے دھونا ایک قدرتی کلینزر کی طرح کام کرتا ہے۔
اگر آپکو ہماری یہ پوسٹ پسند آئے تو اسے شئیر ضرور کریں۔